اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق قاہرہ میں تقریب بین المذاہب کے محقق "محمد رفاعہ الطہطاوی" نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے پروگرام "وراء الاخبار" میں آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتوی کے حوالے سے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا: بحیثیت عظیم اسلامی عالم اور قائد، ان کی طرف سے یہ اقدام بہت ہی زیادہ لائق توجہ ہے۔انھوں نے کہا کہ آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا یہ فتوی فتنے کی آگ پر ٹھنڈے پانی کی مانند مؤثر تھا؛ یہ ایک درست فتوی تھا جو مؤثر ترین شیعہ راہنما کی جانب سے صادر ہوا۔ انھوں نے کہا: آیت اللہ العظمی اسلامی رجحانات کے حوالے سے معروف و مشہور ہیں جو ایک عظیم اسلامی مملکت پر حکومت کررہے ہیں اور اس میں شک نہیں ہے کہ ان کا فتوی عالم اسلام کی وحدت و یکجہتی میں بہت ہی زیادہ مؤثر کردار ادا کرے گا۔ لبنان کی جماعت علمائے مسلمین کے ترجمان کا موقف:لبنان کی جماعت علمائے مسلمین کے ترجمان شیخ محمد عمرو نے بھی فتنہ کی آنکہ پھوڑنے میں آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتوی کے مؤثر کردار پر زور دیا اور کہا: شیعہ اور سنی کے درمیان تناؤ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا اسلام کے دینی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو اختلافات اس وقت ابھارے جارہے ہیں سب سیاسی اختلافات ہیں جو عالم اسلام کے اندر ہی بعض افراد کے اعمال کی دستاویز بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا فتنہ انگیزی میں بیرونی استعمار کا کردار بھی قابل غور و توجہ ہے اور علاقے میں حالیہ جنگ کے بعد عراق میں امریکی افواج کے داخلے کے بعد یہ مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات مسلمانوں کے درمیان اندرونی اختلافات کے مرہون منت ہیں جبکہ کم از کم 90 فیصد شیعہ اور سنی مسلمان وحدت و یکجہتی کے قیام اور اختلافات سے دوری اور اجتناب کے خواہاں ہیں چنانچہ باقی ماندہ 10 فیصد اختلاف پسند عناصر کو مسلمانوں کے تمام امور کی باگ ڈور سنبھالنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ شیخ عمرو نے کہا: انقلاب اسلامی کے رہبر کا فتوی ایک فقہی اور سیاسی فتوی ہے بایں معنی کا اہل تشیع خواہ امام خامنہ ای کے مقلد نہ بھی ہوں اس پر عمل کرنے کی پابند ہوجاتے ہیں۔یہ فتوی فتنہ پروروں اور اجنبیوں کے غصے سے مرجانے کا باعث ہوالبنان کے دیگر سنی علماء نے بھی آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کے فتوی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتوی گدلے پانی سے مچھلی پکڑنے کی کوشش کرنے اور مسلمانوں کے درمیان فتنہ ڈالنے کی سازش کرنے والوں کے سامنے ایک بھاری بھرکم بند کی حیثیت رکھتا ہے۔ تحریک مزاحمت کے حامی سنی علماء بورڈ کے سربراہ "شیخ ماہر مزہر" نے ایک بیان میں کہا: آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی امت اسلامی کے قائد و پیشوا کی حیثیت سے آپ کی حکمت، علم و دانش اور اعلی درجے کے ایمان کی علامت ہے کیونکہ اسلامی امہ کا امام وہ ہے جو امت کے درمیان اتحاد و یکجہتی قائم کرکے دشمنوں کو فتنہ انگیزی نہ کرنے دے؛ آپ کا یہ فتوی اس بات کا سبب بنا کہ اہل فتنہ اور اجنبی قوتیں غصے سے مرجائیں۔ لبنان کی عوامی علوی تحریک کے سربراہ مصطفی علی حسین نے بھی رہبر انقلاب اسلامی کی فتوی کی تعریف و تمجید کرتے ہوئے کہا: آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ثابت کیا کہ امت اسلامی کے عظیم رہبر و امام ہیں اور اعلی ذکاوت و کیاست، استعداد و قابلیت اور عظیم فکر کے مالک ہیں۔ لبنان کے امل محاذ نے بھی اپنے بیان میں رہبر معظم کے فتوی کا خیر مقدم کیا اور کہا: عظیم ترین شیعہ دینی، روحانی اور سیاسی مرجع کی جانب سے اس فتوی سمیت لبنان، خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک کے شیعہ مراجع اور علماء کی جانب سے اسی قسم کے فتوے مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کی تقویت کا سبب بنے اور اجنبی جاسوسی اداروں ـ خاص طور پر صہیونی ریاست کے بدنام زمانہ جاسوسی اداروں ـ کی ہدایت پر اٹھنے والے فتنوں کی نابودی کا سبب ہوئے۔
..........
/110